حکومتِ مہاراشٹر کی یکساں سول کوڈ کمیٹی کی ویب سائٹ پر Organization / Individual فارم میں اضافی تجاویز کے لیے یہ تحریر بطور PDF اپلوڈ کریں یا متن کے طور پر درج کریں:
۱۔ یکساں سول کوڈ کی تشکیل مذہبی آزادی کی ضمانت جو دستور ہند کی دفعہ 25، 26 میں رکھی گئی ہے کو ختم کرنے کے مترادف ہے، ہمارا ملک ہمیشہ سے ایک مذہبی ملک رہا ہے، اور دستور ہند میں سارے مذاہب کا احترام اور ان پر عمل پیرا ہونے کی آزادی دی گئی ہے۔ یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے بعد اس مذہبی آزادی کو نہ صرف یہ کہ خطرہ لاحق ہوگا بلکہ اس کے ختم کر دیئے جانے کا قوی امکان ہے۔
۲۔ سوال نامہ کی متعدد دفعات میں نکاح، طلاق، وراثت، وصیت جیسے مذہبی موضوعات کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ جبکہ یکساں سول کوڈ کی دفعہ 44 محض ایک سماجی مساوات سے متعلق مشورہ ہے۔ اگر حکومت اس کی قانون سازی کو مفید اور ضروری سمجھتی ہے تو دستور ہند میں مندرج تمام پرسنل لاء کو باقی رکھتے ہوئے اس کی قانون سازی کرے۔
۳۔ لیو ان ریلیشن شپ کو کسی بھی درجے میں قانونی حیثیت نہ دی جائے، یہ طریقہ ہندوستان کی مشرقی تہذیب کو تباہ کرنے والا اور مغربی تہذیب کو فروغ دینے والا ہے۔